دل خراش

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جانکاہ، روح فرسا، درد ناک، تکلیف دہ۔ "پانی کی موجوں میں موت کا کس قدر دل خراش منظر نظر آتا ہو گا۔"      ( ١٩٣٥ء، عربوں کی جہاز رانی، ٣٠ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'دل' کے ساتھ 'خراشیدن' مصدر سے فعل امر 'خراش' بطور اسم فاعل لگایا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٤٦ء کو "دفتر مضاحت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جانکاہ، روح فرسا، درد ناک، تکلیف دہ۔ "پانی کی موجوں میں موت کا کس قدر دل خراش منظر نظر آتا ہو گا۔"      ( ١٩٣٥ء، عربوں کی جہاز رانی، ٣٠ )